Friday, September 14, 2012

سن ساٹھ(٦٠) ہجری اور بچوں کی امارت



امام أبو العباس الأصم محمد بن يعقوب بن يوسف النيسابوري (المتوفی346)نے کہا:
أخبرنا العباس بن الوليد أخبرني أبي حدثني ابن جابر عن عمير بن هانئ أنه حدثه قال كان أبوهريرة يمشي في سوق المدينة وهو يقول اللهم لا تدركني سنة الستين ويحكم تمسكوا بصدغي معاوية اللهم لا تدركني إمارة الصبيان [الثاني من حديث ابی العباس الاصم :ق 169 - 1702 - 1 واسنادہ صحیح و اخرجہ البیھقی فی دلائل النبوة للبيهقي: 6/ 466 وابن عساکر فی تاريخ دمشق : 59/ 217 من طریق ابی العباس بہ ونقلہ ابن کثیر فی البداية والنهاية : 6/ 256 و المقريزي فی إمتاع الأسماع 12/ 232 بھذاللفظ و واخرجہ ایضا ابو زرعة الدمشقي فی تاریخہ ص: 231، بدون لفظ امارۃ الصبیان]۔

عمربن ہانی کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے بازار میں چلتے اورکہتے اے اللہ ! مجھے سن ساٹھ کا زمانہ نہ ملے ، اورکہتے اے لوگو ! امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی کو لازم پکڑو نیز یہ بھی کہتے کہ اے اللہ ! مجھے بچوں کی امارت کادور نہ ملے ۔


مذکورہ روایت موقوف ہے یعنی ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک دعاء ہے ۔
اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء سے متعلق دوباتیں ہیں۔

اول: ابوہرہ رضی اللہ عنہ نے سن ساٹھ(٦٠) ہجری کادور نہ پانے کی دعاء کی ہے۔
دوم:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بچوں کی امارت کادور نہ پانے کی دعاء کی ہے۔

چونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں مذکورہ دونوں باتیں ایک ساتھ مذکورہیں اس لئے بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ دونوں باتیں ایک ہی دور سے تعلق رکھتی ہیں ۔
حالانکہ یہ سمجھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اورصریح حدیث کی روشنی میں قطعی طورپرغلط ہے۔

ذرا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو غورسے پڑھیں:
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235)نے کہا:
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَمِنْ إمْرَةِ الصِّبْيَانِ[مصنف ابن أبي شيبة: 15/ 49 واسنادہ صحیح ومن طریق وکیع اخرجہ احمد فی مسندہ 15/ 486 و اخرجہ ایضا البزار 16/ 249 وابن عدی فی الکامل6/2101 و ابو أحمد الحاكم فی الأسامي والكنى : 5/ 169 وابویعلی کمافی البداية والنهاية 11/ 647 کلھم من طریق کامل بہ ، و اخرجہ ایضا احمدبن منیع فی مسندہ قال البوصیری فی إتحاف الخيرة المهرة:8/ 41 رواه أحمد بن منيع، ورواته ثقات ، والحدیث صححہ الالبانی فی الصحیحہ رقم 3191]۔

ترجمہ :صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن ستر (٧٠) کے اوائل سے پناہ طلب کرو اور بچوں کی امارت سے پناہ طلب کرو۔

یہ کسی صحابی کا قول نہیں بلکہ مرفوع حدیث ہے یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
اس فرمان رسول میں بھی دوباتیں ہیں:
اول:
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن ستر(٧٠) کے دور سے پناہ طلب کرنے کاحکم دیاہے۔
ستر(٧٠) سے مراد ہجری تاریخ نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں ہجری تاریخ کا رواج ہی نہ تھا ،اس لئے اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے ستر سال ہیں اورہجری سال کے اعتبارسے یہ سن  اسی (٨٠) ہجری کا دور ہوگا جیساکہ ہم نے اس کی پوری تٍفصیل اپنے مضمون ’’سن ستر (٧٠) سے پناہ مانگنے کا حکم اورامارت یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ‘‘ میں پیش کی ہے ۔

دوم:
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی امارت کے دور سے پناہ طلب کرنے کاحکم دیاہے۔

یعنی اس حدیث رسول میں بھی اسی طرح دو باتیں ایک ساتھ مذکورہیں جس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول میں ہیں، لیکن حدیث رسول میں سن ساٹھ(٦٠) ہجری نہیں ، بلکہ سن ستر(٧٠) کاذکرہے، جس سے سن اسی (٨٠) ہجری مراد ہے کمامضی۔

اب اگر اس حدیث سے بھی اسی طرح استدلال کیا جائے جس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال کیا جاتا ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ فرمان رسول کے  مطابق کم عمربچوں کی امارت کا دور اسی(٨٠) ہجری کاہے۔
پھرایسی صورت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول فرمان رسول کے خلاف ہونے کی صورت میں غیرمسموع ہوگا، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی مقدم ہوگا یعنی کم عمربچوں کی امارت کا دور اسی(٨٠) ہجری ہوگا نہ کہ ساٹھ(٦٠) ہجری اورایسی صورت میں یزیدرحمہ اللہ کی امارت کو کم عمربچوں کی امارت قراردینا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہوگی، کیونکہ یزیدرحمہ اللہ اس دور سے بہت ہی قبل اس دنیاسے رحلت فرماگئے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مذکورہ قول اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمان میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ ان دونوں میں کم عمر بچوں کی امارت کے دور کی تحدید نہیں کی گئی ہے بلکہ دو الگ الگ باتوں کا بیان ہے ، ایک بات کا تعلق محدود دور میں رونماہونے والے مخصوص فتنہ سے ہے اوردوسری بات کا تعلق کم عمربچوں کی امارت سے ہے لیکن یہ امارت کس زمانہ میں ہوگی اس کا بیان مذکورہ دونوں روایات میں سے کسی میں نہیں ، اورمذکورہ دونوں باتوں کے درمیان عربی کا جو ’’و‘‘ ہے یہ واو مغایرت کے لئے ہے جیسا کہ تعوذ کی دعاؤں کا معاملہ ہے۔

شیخ عبدالرحمن العقبی سبعین والی روایت سے متعلق لکھتے ہیں :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : "تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَمَنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ"، فإن إمارة الصبيان غير رأس السبعين، وليس المعنى أن إمارة الصبيان تكون على رأس السبعين، وذلك لأن الواو للمغايرة كقول القائل: أعوذ بالله من الاشتراكية والرأسمالية ۔۔۔۔۔۔۔[مسائل سلطانية للشيخ: عبد الرحمن العقبي (ص: 8) ترقيم الشاملة].

ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سن ستر (٧٠) کے اوائل سے پناہ طلب کرو اور بچوں کی امارت سے پناہ طلب کرو۔ یہاں بچوں کی امارت کا دور سن ستر (٧٠) میں نہیں بتایا گیا ہے اور اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بچوں کی امارت ستر (٧٠) کے اوائل ہی میں ہوگی کیونکہ یہاں ’’واؤ‘‘ مغایرت کے لئے ہے ، جیسے کوئی یہ کہے کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اشتراکی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام سے ۔۔۔۔

اس تطبیق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا ہے۔
اگرکوئی اس تطبیق سے راضی نہیں ہے تو اس پرلازم ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول پرمقدم کرے اوریہ تسلیم کرے وفات رسول کے سترسال بعد تک یعنی اسی (٨٠) ہجری کے اوائل تک بچوں کا امارت کا وجود ناممکن ہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا وجود اپنی وفات کے ستر سال بعد بتایاہے۔

بچوں کی امارت کا دورکب ؟؟؟


گذشتہ سطورمیں یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ روایات میں صرف یہ ملتا ہے کہ بچوں کی امارت کا دورآئے گا مگر یہ دور کب آئے گا اس بارے میں کوئی صریح روایت نہیں ۔
بچوں کی امارت سے متعلق اوربھی معتدد روایات ہیں لیکن کسی ایک میں بھی سرے سے کسی خاص زمانہ کا ذکر ہی نہیں ہے۔
البتہ ایک موقوف روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سن ساٹھ سے قبل وفات کی دعاء کررہے ہیں اوراسی روایت میں بچوں کی امارت کو بھی نہ پانے کی دعاء کررہے ہیں لیکن دوسری طرف ایک مرفوع حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے ستر سال بعد یعنی سن اسی (٨٠) ہجری سے پناہ مانگنے کا حکم دیے رہے ہیں اورساتھ ہی میں بچوں کی امارت سے بھی پناہ مانگنے کا حکم دے رہے ہیں ، یہ مرفوع روایت سامنے آنے کی بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت میں یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث میں بچوں کی امارت والے دور کی تحدید نہیں ہے۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ کا تسامح


حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے بچوں کے امارت کے دور کی شروعات یزیدبن معاویہ سے مانی ہے چنانچہ کہا:
أَنَّ الْمَذْكُورِينَ مِنْ جُمْلَتِهِمْ وَأَنَّ أَوَّلَهُمْ يَزِيدُ [فتح الباري لابن حجر: 13/ 10]۔

یعنی مذکورہ بچے بھی انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی امارت کی طرف حدیث میں اشارہ ہے اوران میں سے پہلا شخص یزید ہے ۔

حافظ موصوف اپنی اس بات کی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں:
كَمَا دَلَّ عَلَيْهِ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَأْسُ السِّتِّينَ وَإِمَارَةُ الصِّبْيَانِ [فتح الباري لابن حجر: 13/ 10]۔

جیساکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس پردلالت کرتا ہے کہ اے اللہ ! مجھے سن ساٹھ کا زمانہ نہ ملے ، اے اللہ ! مجھے بچوں کی امارت کادور نہ ملے ۔

معلوم ہواکہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے یزید بن معاویہ کی امارت کو بچوں کی امارت کہنے کے لئے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت کو دلیل بنایا ہے لیکن ہم عرض کرچکے ہیں ایک صحیح مرفوع روایت میں بچوں کی امارت کے ساتھ ساتھ سن (٨٠) ہجری کا تذکرہ ہوا ہے ، اب اگرحافظ ابن حجررحمہ اللہ کے طریقہ استدلال کو بروئے کار لایاجائے تو کہا جاسکتا ہے کہ بچوں کی امارت کی ابتداء سن اسی ٨٠ ھجری سے ہوگی ، اور ایسی صورت میں ابوہریرہ رضی اللہ کا قول ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے خلاف ہونے کے سبب غیرمسموع ہوگا۔

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث ، دونوں میں محدود سن والے جملے اور بچوں کی امارت والے جملہ کو الگ الگ سمجھا جائے ، جیساکہ گذشتہ سطور میں تفصیل پیش کی جاچکی ہے۔

یادرہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کا یزید کی امارت کو بھی بچوں کی امارت میں شمارکرنا واضح حقائق کے خلاف ہے کیونکہ یزید رحمہ اللہ امارت سنبھالتے وقت بچے تھے ہی نہیں ، حافظ موصوف کو بھی یہ اشکال محسوس ہوا اس لئے انہوں نے یہ تاویل پیش کی :
وَقَدْ يُطْلَقُ الصَّبِيُّ وَالْغُلَيِّمُ بِالتَّصْغِيرِ عَلَى الضَّعِيفِ الْعَقْلِ وَالتَّدْبِيرِ وَالدِّينِ وَلَوْ كَانَ مُحْتَلِمًا وَهُوَ الْمُرَادُ هُنَا فَإِنَّ الْخُلَفَاءَ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ مَنِ اسْتُخْلِفَ وَهُوَ دُونَ الْبُلُوغِ وَكَذَلِكَ مَنْ أَمَّرُوهُ عَلَى الْأَعْمَالِ[فتح الباري لابن حجر: 13/ 9]۔

صبی اور غلیم کا اطلاق کم عقل و کم فہم پربھی ہوتا ہے گرچہ وہ بالغ ہی کیوں نہ ہو اوراس حدیث میں بچوں سے یہی مراد ہے کیونکہ بنوامیہ میں کوئی بھی خلیفہ نابالغ نہیں گذرا ہے اسی طرح ان کے عمال بھی سب کے سب بالغ تھے۔

ہم کہتے ہیں کہ یہ تاویل بے سود ہے کیونکہ یزید رحمہ اللہ کم عقل بھی نہ تھے ، ان کے ظالم ہونے کا پروپیگنڈا تو کچھ لوگوں نے کیا ہے لیکن ان پرکم عقلی کا الزام تو کسی ایک نے بھی نہیں لگایا ، معلوم نہیں حافظ موصوف نے انہیں کم عقل کیسے باورکرلیا۔

نیزاصول یہی ہے کہ اصلا نصوص شریعت کو حقیقت پرمحمول کیا جائے لہٰذا بچوں  کی امارت والی حدیث حقیقت ہی پر محمول ہوگی کیونکہ اس کی تاویل کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے مزید یہ کہ سلف میں سے کسی نے بھی اس حدیث کی تاویل نہیں کی ہے بلکہ خود حافظ ابن حجر(المتوفى852) رحمہ اللہ کے بقول الفاظ حدیث کے معانی پر کتاب لکھنے والے امام ابن الأثير (المتوفى: 606) رحمہ اللہ نے اس طرح کے الفاظ کو حقیقت پر محمول کیا ہے ، حافظ موصوف فرماتے ہیں:
وَقَالَ بن الْأَثِيرِ الْمُرَادُ بِالْأُغَيْلِمَةِ هُنَا الصَّبِيَّانِ وَلِذَلِكَ صَغَّرَهُمْ[فتح الباري لابن حجر: 13/ 9 وانظر:النهاية في غريب الحديث لابن الاثیر: 3/ 382]۔

امام ابن الاثیر رحمہ اللہ نے کہا کہ یہاں ’’أغيلمة‘‘ سے مراد چھوٹے بچے ہیں اسی لئے اس کی تصغیر لائی گئی ہے۔

اسی طرح سلف میں سے کسی نے بھی یزید رحمہ اللہ کو اس حدیث کا مصداق نہیں بتلایا ہے بلکہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق سعيد بن عمرو رحمہ اللہ نے اس کا مصداق دوسرے ایسے بچوں کو بتلایا ہے جن کا زمانہ عہد یزید سے بہت بعد کا زمانہ ہے، چنانچہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد، قال: أخبرني جدي، قال: كنت جالسا مع أبي هريرة في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة، ومعنا مروان، قال أبو هريرة: سمعت الصادق المصدوق يقول: «هلكة أمتي على يدي غلمة من قريش» فقال مروان: لعنة الله عليهم غلمة. فقال أبو هريرة: لو شئت أن أقول: بني فلان، وبني فلان، لفعلت. فكنت أخرج مع جدي إلى بني مروان حين ملكوا بالشأم، فإذا رآهم غلمانا أحداثا قال لنا عسى هؤلاء أن يكونوا منهم؟ قلنا: أنت أعلم[صحيح البخاري: 9/ 47]۔

عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی ، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ وہ کس کس خاندان سے ہوں گے۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں(عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو ) اپنے دادا (سعيد بن عمرو)کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں (سعيد بن عمرو) نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔

اورمسند احمد کی روایت میں ہے:
فَإِذَا هُمْ يُبَايِعُونَ الصِّبْيَانَ مِنْهُمْ، وَمَنْ يُبَايِعُ لَهُ، وَهُوَ فِي خِرْقَةٍ [مسند أحمد: 14/ 58واسنادہ صحیح]۔

وہ لوگ بچوں سے بھی بیعت لے رہے تھے ، اور ایسے بچے سے بھی بیعت لے رہے تھے جو کپڑے میں لپٹا ہوا تھا ۔

اس حدیث میں غورکریں کہ سعيد بن عمرو رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کا مصداق یزید رحمہ اللہ کے بجائے دوسرے بچوں کو بتلایا ہے اوریزید کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا ہے اور ان کے پوتے نے بھی اس موقع پر یزید رحمہ اللہ کا کوئی حوالہ نہ دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ تک کسی نے بھی بچوں کی امارت والی حدیث کو یزید رحمہ اللہ پرفٹ ہی نہیں کیا تھا ۔

الغرض یہ کہ بچوں کی امارت والی حدیث کو حقیقت ہی پر محمول کیا جائے اس کی  تاویل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، نیز سلف میں سے بھی کسی نے نہ تو اس کی  تاویل کی ہے اورنہ ہی اسے یزید پرفٹ کیا ہے اس لئے اسے یزید رحمہ اللہ پر فٹ کرنا انصاف کے خلاف ہے۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے مذکورہ تاویل کے ساتھ ایک بات یہ بھی کہی ہے کہ :
فَإِنَّ يَزِيدَ كَانَ غَالِبًا يَنْتَزِعُ الشُّيُوخَ مِنْ إِمَارَةِ الْبُلْدَانِ الْكِبَارِ وَيُوَلِّيهَا الْأَصَاغِرَ مِنْ أَقَارِبِهِ[فتح الباري لابن حجر: 13/ 10]۔

کیونکہ یزید عام طور شہروں کے بڑے امراء کو معزول کرکے ان کی جگہ اپنے اقرباء میں سے چھوٹے چھوٹے لوگوں کو بٹھا دیتا تھا۔

عرض ہے کہ یہ بات محض افواہ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے معلوم نہیں حافظ موصوف نے یہ بات کہاں سے اخذ کی ہے ، علاوہ ازیں یزید رحمہ اللہ کو چھوٹا امیر ثابت کرنے کے لئے یہ بہت دور کی کوڑی ہے اگر چھوٹے امراء یزید کے ماتحت تھے خود یزید نہیں تھا تو پھر حدیث مذکورکو صرف انہیں چھوٹے امراء ہی پرفٹ کرنا چاہے ، خواہ مخواۃ یزید رحمہ اللہ کو اس بیچ میں کیوں لایا جارہا ہے، گرچہ ایسا یزید رحمہ اللہ کے حکم سے ہوا ہو لیکن یہ حکم صادر کرنے سے یزید رحمہ اللہ کی عمر تو چھوٹی نہیں ہوجائے گی ، نیزاگر دور کی کوڑی سے یزید چھوٹا امیر ثابت ہوا کیونکہ اس نے چھوٹے امرا متعین کئے تو کیا اس فلسفہ کی رو سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شماربھی چھوٹے امراء میں ہوگا؟؟ کیونکہ انہوں نے بھی یزید رحمہ اللہ کو خلافت کے لئے نامزد کیا ؟؟؟ معلوم نہیں حافظ موصوف ان تکلفات سے کیوں کام لے رہے ہیں ، غالبا حافظ موصوف رحمہ اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سن ساٹھ والی روایت کی وجہ سے ان تکلفات پرمجبور ہوئے ہیں لیکن اس روایت کی وضاحت اوپر کی جاچکی ہے۔


سن ساٹھ کے فتنے کا ذمہ دارکون ؟


رہی بات یہ کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن ساٹھ سے قبل موت کی دعاء کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس دور میں کوئی فتنہ ہوگا۔
عرض ہے کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء سے اس دور میں کسی فتنہ کی طرف اشارہ ملتاہے مگر یہ فتنہ یزید بن معاویہ رضی اللہ  عنہ کی طرف سے ہوگا ، اس جانب کوئی ادنی اشارہ بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس دعاء میں نہیں ہے ، لہٰذا اس سے یزید بن معاویہ رحمہ اللہ پرکوئی حرف نہیں آتا۔
اگرکوئی کہے کہ یہ فتنہ دور یزید میں تو ہوا ، تو عرض ہے کہ اس سے بڑے فتنے علی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئے ، جنگ جمل اورجنگ صفین میں صحابہ کی بہت بڑی تعداد شہید ہوئی ، بلکہ علی رضی اللہ عنہ کے دور میں جس قدر صحابہ کرام کا خون بہا اتنا خون یزیدبن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پورے دور میں نہیں بہا اوران فتنوں کی طرف اشارہ صرف صحیح ہی نہیں بلکہ صحیح ومرفوع روایات میں ہے ، تو کیا ان تمام صحابہ کے خون کی ذمہ داری علی رضی اللہ عنہ پرہوگی ۔
ہرگز نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری تو اس سازشی ٹولہ کے سر جاتی ہے جس نے صحابہ کے بیچ خونریز جنگ کرائی ۔

یہی معاملہ دور یزید کے فتنہ سے بھی ہے یعنی اس دور کے فتنہ کی ذمہ داری یزید رحمہ اللہ کے سرنہیں جاتی بلکہ اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کے خلاف سازشیں کیں تاکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر انہیں تباہ و برباد کیا جائے پہلے اس سازشی ٹولے نے امت مسلمہ کے خون سے ہولی کھیلنے کے لئے حسین رضی اللہ عنہ کا استعمال کرنا چاہا لیکن اس میں کامیاب نہ ہوا توخود حسین رضی اللہ عنہ ہی کو شہید کرڈالا ، اس کے بعد اسی سازشی ٹولے نے اہل مکہ ومدینہ کے سامنے یزید رحمہ اللہ پر شراب نوشی ، ترک  صلاۃ اورنہ جانے کیسے کیسے جھوٹھے الزامات لگائے تاکہ انہیں یزید کے خلاف  ورغلائے ، ظاہر ہے کہ جن کی سازشوں سے اجلہ صحابہ رضی اللہ عنہم تک محفوظ نہ رہ سکے اورجمل و صفین کے معرکے وقوع پذیر ہوئے ، کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اہل مکہ ومدینہ کے بعض افراد ان کی سازشوں کے شکار ہوکر اپنوں ہی کے خلاف برسر پیکار ہوجائیں۔

الغرض یہ کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو سن ساٹھ میں فنتہ کی طرف اشارہ کیا ہے تو اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے یہ فتنے برپا کئے ، ہم بغیر کسی ثبوت کے اس کی ذمہ داری یزید رحمہ اللہ پر قطعا نہیں ڈال سکتے بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ یزید رحمہ اللہ کی طرف نہیں ہے کیونکہ یزید رحمہ اللہ کی پیشگی بیعت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی ہوگئی تھی اور اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ باحیات تھے لیکن کسی ایک بھی روایت میں یہ نہیں ملتا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یزید رحمہ اللہ کو ولی عہد بنانے پر کوئی اعترض کیا ہو اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس حکمت عملی کے خلاف کوئی بات اشارہ و کنایہ میں بھی کہی ہو بلکہ اس کے برعکس ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ وہ جب سن ساٹھ سے قبل فوت ہونے کی دعاء کرتے تو ساتھ ہی میں امیر معایہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی کو لازم پکڑنے کی وصیت بھی کرتے تھے۔
چنانچہ اوپر جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل ہوئی ہے اسے پھر سے پڑھیں اس میں یہ بھی ملتا ہے کہ:
وهو يقول اللهم لا تدركني سنة الستين ويحكم تمسكوا بصدغي معاوية [حوالہ مذکور]۔

ترجمہ : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے اے اللہ ! مجھے سن ساٹھ کا زمانہ نہ ملے ، اورکہتے اے لوگو ! امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی کو لازم پکڑو

ان الفاظ پر غورکریں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سن ساٹھ سے قبل فوت ہونے کی دعاء کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں سے یہ بھی فرمارہے ہیں کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی کو لازم پکڑو ۔
اوریزید رحمہ اللہ کی ولیعہدی اوربعد میں ان کا خلیفہ بننا بھی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی ہے ، جس سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واقف تھے گویا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نظر میں اس فتنہ کے وقت یزید رحمہ اللہ کی بیعت کو لازم پکڑنے ہی میں عافیت ہے، اوربعد میں جب یہ دور آیا تو دیگر صحابہ نے بھی اس وقت کے لوگوں کو یہی نصیحت کی۔

Labels:


سن ستر (٧٠) سے پناہ مانگنے کا حکم اورامارت یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ۔


امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235)نے کہا:
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَمِنْ إمْرَةِ الصِّبْيَانِ[مصنف ابن أبي شيبة: 15/ 49 واسنادہ صحیح ومن طریق وکیع اخرجہ احمد فی مسندہ 15/ 486 و اخرجہ ایضا البزار 16/ 249 وابن عدی فی الکامل6/2101 و ابو أحمد الحاكم فی الأسامي والكنى : 5/ 169 وابویعلی کمافی البداية والنهاية 11/ 647 کلھم من طریق کامل بہ ، و اخرجہ ایضا احمدبن منیع فی مسندہ قال البوصیری فی إتحاف الخيرة المهرة:8/ 41 رواه أحمد بن منيع، ورواته ثقات ، والحدیث صححہ الالبانی فی الصحیحہ رقم 3191]۔
ترجمہ :صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن ستر (٧٠) کے اوائل سے پناہ طلب کرو اور بچوں کی امارت سے پناہ طلب کرو۔

سندکا تعارف

یہ روایت مرفوع ہے یعنی فرمان رسول ہے اوربالکل صحیح ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے الصحیحہ رقم (3191) میں صحیح قراردیا ہے اس کی سند کے رجال کا تعارف ملاحظہ ہو:

ابوصالح مينا مولى ضباعة بنت الزبير

امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى:234)نےکہا:
كَانَ ثبتا وَكَانَ من التَّابِعين وَهُوَ الَّذِي يروي عَنهُ أهل الكوفه[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 107]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
فأما: أبو صالح السمان الزيات وأبو صالح الحنفي وأبو صالح، مولى ضباعة من تابعي الكوفة - فهولاء ثقات.وكذا جماعة بهذه الكنية لا لين فيهم.[ميزان الاعتدال للذهبي: 4/ 539]۔

امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے اسے ثقات میں نقل کرتے ہوئے کہا:
ميناء أبو صالح مولى ضباعة بنت الزبير يروى عن أبى هريرة روى عنه كامل أبو العلاء [الثقات لابن حبان: 5/ 455]۔

امام بوصيري رحمه الله (المتوفي: 840) نے کہا:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَوَّذُوا بالله من رأس السبعين ومن إمارة الصبيان".رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ.وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو يَعْلَى إلا أنه قال: "تعوذوا بالله من سنة سبعين". ورواه أحمد بن حنبل ... فذكره، وزاد في آخره: "ولا تذهب الدنيا حتى تصيرللكع بن لُكَعَ".[إتحاف الخيرة المهرة للبوصيري: 8/ 41]۔
تنبیہ:
حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے کہا:
أبو صالح مولى ضباعة لين الحديث من الثالثة[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 555]۔
عرض ہے کہ راوی مذکور کی تلیین میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ منفرد ہیں اس سے قبل کسی نے بھی ان پرکلام نہیں کیا ہے بلکہ متقدمین نے متفقہ طورپرانہیں ثقہ قراردیا ہے کمامضی ۔
اورممکن ہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی طرف سے اس راوی کی تلیین سبقت قلم کا نتیجہ ہو اوراس راوی کے ترجمہ کے وقت ان کے ذہن میں أبو صالح الخوزي کا تصور رہا ہو اورحافظ موصوف نے یہاں اسے ہی سمجھ کر اس کی تلیین کردی ہو ، کیونکہ اس راوی سے ذرا پہلے أبو صالح الخوزي کا ترجمہ موجودہے جو کہ اسی طبقہ کا ہے اوراس کے بارے میں حافظ موصوف نے کہا:

أبو صالح الخوزي لين الحديث من الثالثة[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 555]۔

بہرحال کوئی بھی معاملہ ہو جمہورمحدثین نے اس کی توثیق کی ہے۔

كامل بن العلاء أبو العلاء

یہ راوی بھی جمہورمحدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ان پرصرف ابن سعد(الطبقات:6/ 356) اور ابن حبان (المجروحين لابن حبان: 2/ 227) رحمھما اللہ نے جرح کی ہے جو کہ جمہورمحدثین کے خلاف ہونے کے سبب غیرمسموع ہے ، نیز امام مزی (تهذيب الكمال للمزي: 24/ 101) رحمہ اللہ نے امام نسائی سے بھی جرح نقل کی ہے لیکن اول تو امام نسائی رحمہ اللہ سے یہ جرح ثابت نہیں دوم خود امام مزی (تهذيب الكمال للمزي: 24/ 101) رحمہ اللہ نے امام نسائی رحمہ اللہ سے اس کی توثیق بھی نقل کی ہے۔
بہرحال جمہورمحدثین نے اس راوی کوثقہ کہا ہے تفصیل ملاحظہ ہو:

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
كامل بن العلاء أبو العلاء ثقة [تاريخ ابن معين - رواية الدوري: 3/ 273]۔

امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
كامل أبو العلاء "كوفي"، ثقة.[تاريخ الثقات للعجلي: ص: 396]۔

امام فسوي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
كامل بن العلاء وهو ثقةٌ[المعرفة والتاريخ للفسوي: 3/ 234]۔

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
أرجو أن لا بأس به[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 228]۔

امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
كامل بن العلاء وهو ثقة[مجمع الزوائد للهيثمي: 7/ 145]۔

امام بوصيري رحمه الله (المتوفي: 840) نے کہا:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَوَّذُوا بالله من رأس السبعين ومن إمارة الصبيان".رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ.وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو يَعْلَى إلا أنه قال: "تعوذوا بالله من سنة سبعين". ورواه أحمد بن حنبل ... فذكره، وزاد في آخره: "ولا تذهب الدنيا حتى تصيرللكع بن لُكَعَ".[إتحاف الخيرة المهرة للبوصيري: 8/ 41]۔


وكيع بن الجراح بن مليح الرؤاسى
آپ بخاری ومسلم سمیت کتب ستہ کے رجال میں سے ہیں اوربہت بڑے امام ومحدث و فقیہ ہیں ان کے تعارف کی ضرورت نہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت بالکل صحیح ہے ۔

مفہوم حدیث


اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن ستر (٧٠) سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس حدیث میں سن ستر (٧٠) سے کیا مراد ہے؟؟؟؟

ملاعلی قاری رحمہ اللہ مشکاۃ کی شرح میں فرماتے ہیں:
أَيْ مِنْ فِتْنَةٍ تَنْشَأُ فِي ابْتِدَاءِ السَّبْعِينَ مِنْ تَارِيخِ الْهِجْرَةِ، أَوْ وَفَاتِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ [مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: 6/ 2418 ]۔
یعنی ملاعلی قاری رحمہ اللہ کے بقول اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’سبعین‘‘ (سترسال) سے ہجرت کے بعد کے سترسال کو مراد لیا ہے یا اپنی وفات کے بعد کے سترسال کو مراد لیا ہے۔

عرض ہے کہ ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے جودوسری بات کہی ہے وہی صحیح ہے۔ یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں ’’سبعین‘‘ سے ہجری سال مراد لینا قطعا غلط ہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہجری سال کاکوئی تصور ہی نہیں تھا اس لئے کہ ہجری سال بولنے کا رواج تو خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے شروع ہواہے۔
لہٰذا یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ مذکورہ حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن ستر (٧٠) سے اپنی وفات کے بعد کے ستر(٧٠) سال مراد لئے ہیں کیونکہ آپ مستقبل کی پیشین گوئی کررہے ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے بعد ہی سے ستر (٧٠) سال مراد لے رہے ہیں، یادرہے کہ مذکورہ حدیث کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تین سال قبل اسلام قبول کیا اورعین ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی کے آخری ایام میں مذکورہ حدیث سنائی ہو ایسی صورت میں اگرمذکورہ حدیث کے صدور کے بعد کا ستر(٧٠) سال مراد لین تب بھی بات ایک ہی ہوگی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث اپنے سال وفات ہی میں ارشاد فرمائی۔

اوروفات رسول کی تاریخ، ہجری سال کے اعتبار سے گیارہ (١١) ہجری ہے اوروفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ستر(٧٠) سال بشمول سال وفات ، ہجری سال کے اعتبار سے اسی (٨٠) ہجری کا سال ہوگا، ، گویا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں سن اسی (٨٠) ہجری کے اوائل سے پناہ مانگنے کاحکم دیاہے۔

ایسی صورت میں امیریزیدبن معاویہ رحمہ اللہ اس حدیث کے مصداق ہوہی نہیں سکتے کیونکہ یزید رحمہ اللہ تو اسی (٨٠) ہجری سے ١٦ سال قبل سن چوسٹھ ٦٤ ہجری ہی کو وفات پاگئے۔

اوراگر مذکورہ حدیث میں ’’سبعین‘‘ سے مرادسن ستر(٧٠) ہجری ہی لے لیں جوکہ قطعا غلط ہے تو بھی امیریزیدرحمہ اللہ کاعہد اس کا مصداق نہیں ہوگا کیونکہ امیریزیدبن معاویہ رحمہ اللہ تو (٧٠) ہجری سے ٦سال قبل ہی سن چوسٹھ ٦٤ ہجری میں وفات پاگئے۔

اگرکوئی کہے کہ مذکورہ حدیث میں ’’سبعین‘‘ سے مراد ستر (٧٠) کی دہائی یعنی پوراعشرہ ہے یعنی ٦٠ ہجری سے لیکر ٧٠ تک کا دور ہے توعرض ہے کہ مذکورہ حدیث کے کسی بھی طریق میں ’’عشرالسبعین‘‘(سترکی دہائی) کا لفظ نہیں ہے بلکہ ابویعلی رحمہ اللہ کی روایت میں ’’راس السبعین‘‘ کی جگہ ’’سَنَةِ سَبْعِينَ‘‘ ہے جو اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ مذکورہ حدیث میں صرف سن ستر (٧٠) مراد ہے نہ کہ ستر (٧٠) کی دہائی یعنی پورا عشرہ۔

امام بوصيري رحمه الله (المتوفي: 840) نے ابویعلی کے الفاظ کو نقل کرتے ہوئے کہا:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَوَّذُوا بالله من رأس السبعين ومن إمارة الصبيان".رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ.وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو يَعْلَى إلا أنه قال: "تعوذوا بالله من سنة سبعين". ورواه أحمد بن حنبل ... فذكره، وزاد في آخره: "ولا تذهب الدنيا حتى تصيرللكع بن لُكَعَ".[إتحاف الخيرة المهرة للبوصيري: 8/ 41]۔

ابویعلی کی اس روایت کو مکمل سندکے ساتھ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے یوں نقل کیا ہے:
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ سَنَةِ سَبْعِينَ ، وَمِنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ»[البداية والنهاية:11/ 647 واسنادہ صحیح]۔

یہ سند بالکل صحیح ہے کامل بن العلاء اورابوصالح کا تعارف اوپر ہوچکاہے ، اور زہربن حرب اور فضل بن دکین یہ دونوں زبردست ثقہ راوی نیزبخاری ومسلم کے رجال میں سے ہیں۔

لطف کی بات یہ ہے کہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے ایک موقوف روایت ملتی ہے جس میں انہوں نے ’’رأس الستين‘‘ کے دورسے پناہ مانگی ، لیکن اس روایت سے متعلق کوئی نہیں کہتا کہ اس سے مراد ستین(٦٠) کی دہائی یعنی (٦٠) کا پورا عشرہ ہے ، اوراس میں پچاس (٥٠) سے لیکر ساٹھ (٦٠) سال تک کے دس سال مراد ہیں، اوران دس سالوں کے ابتدائی ایام سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پناہ مانگی ہے، کیونکہ ایسی صورت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ دعاء بالکل بے معنی نظرآئے گی کیونکہ وہ ایسے دور سے قبل فوت ہونے کی دعاء کررہے ہیں جس دورکو وہ پاچکے ہیں اوراسی میں سانس لے رہے ہیں۔

پھر اگرابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء ’’رأس الستين‘‘ میں ساٹھ(٦٠) سے مراد پورا عشرہ نہیں لیا جاسکتا تو پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’رَأْسِ السَّبْعِينَ‘‘ سے بھی ستر(٧٠)کا پورا عشرہ مراد نہیں لیا جاسکتا ۔
اگرکوئی کہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء سے متعلق بعض طرق میں ’’سنة ستين‘‘ کالفط ہے توعرض ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث کے بھی بعض طرق میں ’’ ’’سَنَةِ سَبْعِينَ‘‘ کا لفظ ہے جیساکہ ماقبل میں امام ابویعلی کی روایت پیش کی گئی ہے۔

یادرہے کہ ہمارے نزدیک وہ تمام روایات غیرثابت شدہ ہیں جن میں یہ ملتاہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن ساٹھ ہجری یا اس کے اوائل سے پناہ مانگی البتہ پناہ مانگنے کی صراحت کے بغیر بعض مستندروایات میں صرف یہ ملتاہے کہ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ دعاء کرتے تھے کہ اللہ تعالی انہیں ساٹھ ہجری سے قبل وفات دے دے ، اور کسی زمانے سے پناہ طلب کرنا اورکسی زمانے سے قبل موت کی دعاکرنا ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ایسی صورت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمان اورابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء میں کوئی تعارض نہیں ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دورسے پناہ مانگنے کاحکم دیا ہے لیکن اس سے قبل موت مانگنے کاحکم نہیں دیا ہے جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاص دورسے قبل موت طلب کی ہے ، لہٰذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث اورابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، اورالگ الگ زمانے سے متعلق ہیں۔
رہی بات یہ کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن ساٹھ ہجری سے قبل موت کی دعا کیوں کہ تو عرض ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتاہے کہ اس دورمیں کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش آنے والا ہے لیکن اس کی ذمہ داری یزیررحمہ اللہ پرہوگی یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء سے قطعاثابت نہیں ہوتا، بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بعض نصیحتوں سے تو یہ معلوم ہوتا کہ اس ناخوشگوارواقعہ کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جو یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ کے خلاف سازش کریں گے اس کی تفصیل ہم کسی دوسرے مقالے میں پیش کریں گے فی الحال ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث پربات کررہے ہیں ۔
الغرض یہ کہ جس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعاء ’’رأس الستين‘‘ میں ساٹھ(٦٠) سے مراد پورا عشرہ نہیں لیا جاتااسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’رَأْسِ السَّبْعِينَ‘‘ سے بھی ستر(٧٠)کا پورا عشرہ مراد نہیں لیا جاسکتا ۔


واضح رہے کہ یہ باتیں اس صورت میں کہی جائیں گی جب یہ فرض کرلیاجائے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مذکورہ فرمان میں ’’سبعین‘‘ سے ہجری سال مراد لیا ہے لیکن ہم پہلے وضاحت کرآئے ہیں کہ اس حدیث میں ’’سبعین‘‘ سے ہجرت کے بعد کے ستر (٧٠) سال نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ستر (٧٠) سال مراد ہیں، کیونکہ ہجری سال کا رواج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا ہی نہیں ۔

اس تفصیل کے بعد عرض ہے کہ اس مرفوع حدیث کا مصداق یزید رحمہ اللہ تو درکنار یزید رحمہ اللہ کا زمانہ بھی نہیں ہے۔

بچوں کی امارت کا دور

اس حدیث رسول میں بھی سن (٧٠) کے ساتھ ساتھ بچوں کی امارت کا بھی ذکر ہے جس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک قول میں سن ساٹھ(٦٠) ہجری اوربچوں کی امارت کاذکرہے، لیکن حدیث رسول میں سن ساٹھ(٦٠) ہجری نہیں ، بلکہ سن ستر(٧٠) کاذکرہے، جس سے سن اسی (٨٠) ہجری مراد ہے کمامضی۔

اب اگر اس حدیث سے بھی اسی طرح استدلال کیا جائے جس طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال کیا جاتا ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ فرمان رسول کے مطابق کم عمربچوں کی امارت کا دور اسی(٨٠) ہجری کاہے۔
پھرایسی صورت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول فرمان رسول کے خلاف ہونے کی صورت میں غیرمسموع ہوگا، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی مقدم ہوگا یعنی کم عمربچوں کی امارت کا دور اسی(٨٠) ہجری ہوگا نہ کہ ساٹھ(٦٠) ہجری اورایسی صورت میں یزیدرحمہ اللہ کی امارت کو کم عمربچوں کی عمارت قراردینا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہوگی، کیونکہ یزیدرحمہ اللہ اس دور سے بہت ہی قبل اس دنیاسے رحلت فرماگئے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مذکورہ قول اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمان میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ ان دونوں میں کم عمر بچوں کی امارت کے دور کی تحدید نہیں کی گئی ہے بلکہ دو الگ الگ باتوں کا بیان ہے ، ایک بات کا تعلق محدود دور میں رونماہونے والے مخصوص فتنہ سے ہے اوردوسری بات کا تعلق کم عمربچوں کی امارت سے ہے لیکن یہ امارت کس زمانہ میں ہوگی اس کا بیان مذکورہ دونوں روایات میں سے کسی میں نہیں ، اورمذکورہ دونوں باتوں کے درمیان عربی کا جو ’’و‘‘ ہے یہ واو مغایرت کے لئے ہے جیسا کہ تعوذ کی تمام دعاؤں کا معاملہ ہے۔

شیخ عبدالرحمن العقبی سبعین والی روایت سے متعلق لکھتے ہیں :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : "تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَمَنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ"، فإن إمارة الصبيان غير رأس السبعين، وليس المعنى أن إمارة الصبيان تكون على رأس السبعين، وذلك لأن الواو للمغايرة كقول القائل: أعوذ بالله من الاشتراكية والرأسمالية ۔۔۔۔۔۔۔[مسائل سلطانية للشيخ: عبد الرحمن العقبي (ص: 8) ترقيم الشاملة].
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سن ستر (٧٠) کے اوائل سے پناہ طلب کرو اور بچوں کی امارت سے پناہ طلب کرو۔ یہاں بچوں کی امارت کا دور سن ستر (٧٠) میں نہیں بتایا گیا ہے اور اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بچوں کی امارت ستر (٧٠) کے اوائل ہی میں ہوگی کیونکہ یہاں ’’واؤ‘‘ مغایرت کے لئے ہے ، جیسے کوئی یہ کہے کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اشتراکی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام سے ۔۔۔۔
اس تطبیق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا ہے۔
اگرکوئی اس تطبیق سے راضی نہیں ہے تو اس پرلازم ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول پرمقدم کرے اوریہ تسلیم کرے وفات رسول کے سترسال بعد تک یعنی اسی (٨٠) ہجری کے اوائل تک بچوں کی امارت کا وجود ناممکن ہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا وجود اپنی وفات کے ستر سال بعد بتایاہے۔



حدیث مذکورکا مصداق کون ؟؟؟

ہم اوپرمفصل وضاحت کرچکے ہیں کہ حدیث مذکورکامصداق یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ کو قطعانہیں بتایاجاسکتا،لیکن اب سوال یہ ہے کہ پھراس کا مصداق کیاہے؟ حدیث میں مذکورعہدمیں کون سا ایساشدید فتنہ تھا جس سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو پناہ مانگنے کاحکم دیا ؟؟؟
تو عرض ہے کہ

اولا:
اصل حقیقت اللہ ہی کومعلوم ہے کیونکہ وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیش آنے والے حوادث وفتن کی باتیں کوئی شریعت کا حصہ نہیں ہیں کہ ان کی بھی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہو، علامہ البانی رحمہ اللہ تو حدیث کی تشریح اوراس پر عمل کرنے والوں کے نام اوراس کے مطابق امت کے اقوال و اعمال کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے نہیں لی ہے بلکہ صرف کتاب وسنت کے حفاظت کی ذمہ داری ہے، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اللہ نے صرف قران وحدیث کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے

علامہ البانی رحمہ اللہ فرما تے ہیں:
لأن الله تعالى لم يتعهد لنا بحفظ أسماء كل من عمل بنص ما من كتاب أو سنة وإنما تعهد بحفظهما فقط كما قال: {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ} فوجب العمل بالنص سوءا علمنا من قال به أو لم نعلم[آداب الزفاف في السنة المطهرة : 267]۔
ترجمہ:اللہ تعالی نے اس بات کی ضمانت نہیں لی ہے کہ کتاب وسنت پرعمل کرنے والے جملہ حضرات کے اسماء کی حفاظت کرے گا ،بلکہ اس نے صرف ،کتاب وسنت کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے جیساکہ فرمایا: (ذکرکو ہم نے ہی نازل کیا ہے اورہم ہی اس کی حفاظت کریں گے )پس کسی بھی ثابت شدہ نص پرعمل کرنا واجب ہوگا ،خواہ اس کے قائلین یا اس پرعمل کرنے والوں کے نام معلوم ہوں یا نہ ہوں۔
ثانیا:
مذکورہ عہد حجاج بن یوسف کی امارت کا عہدہے، حجاج بن یوسف نے گرچہ اچھے کام بھی کئے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اس نے بہت سارے صحابہ کرام اورتابعین عظام کو بہت ہی بے دردی سے قتل کیا اور اپنی بات منوانے میں حددرجہ سختی سے کام لیتا تھا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممکن ہے حدیث مذکور میں اسی فتنہ کی طرف اشارہ ہو کیونکہ حجاج بن یوسف کا فتنہ بھی کوئی معمولی فتنہ نہ تھا ۔
بلکہ ایک روایت میں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صراحتا شر قرار دیا ہے چنانچہ مسند احمد کی روایت میں اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہافرماتی ہیں:
وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ، الْآخِرُ مِنْهُمَا شَرٌّ مِنَ الْأَوَّلِ، وَهُوَ مُبِيرٌ[مسند أحمد: 44/ 529 واسنادہ صحیح علی شرط الشیخین]۔
ترجمہ: اللہ کی قسم ! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردی ہے کہ بنوثقیف میں دو کذاب آدمیوں کا خروج عنقریب ہوگا ، جس میں دوسرا پہلے کی بنسبت زیادہ بڑے شر اورفتنے والا ہوگا اور وہ مبیر ہوگا۔
صحیح مسلم میں بھی یہی روایت موجود ہے اس میں اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثنا أن في ثقيف كذابا ومبيرا فأما الكذاب فرأيناه وأما المبير فلا إخالك إلا إياه[صحيح مسلم:4/ 1971]۔
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک حدیث بیان فرمائی تھی قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہوگا کہ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا اور ظالم میں تیرے علاوہ کسی کو نہیں سمجھتی۔
یادرہے کہ صحابہ وتابعین اورسلف نے متفقہ طور پرحجاج بن یوسف کواس حدیث کا مصداق قراردیاہے، اس لئے بعید نہیں کہ مذکورہ حدیث میں بھی اسی کے فتنہ کی طرف اشارہ ہو واللہ اعلم۔

فائدہ:

یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ حجاج بن یوسف سے بہرصورت اچھے اوربہتر تھے،شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بقول اس پرسب کا اتفاق ہے۔
شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)نے کہا:
أن القول في لعنة يزيد كالقول في لعنة أمثاله من الملوك الخلفاء وغيرهم ، ويزيد خير من غيره ،خير من المختار بن أبي عبيد الثقفي أمير العراق ، الذي أظهر الانتقام من قتلة الحسين ؛ فإن هذا ادّعى أن جبريل يأتيه . وخير من الحجاج بن يوسف ؛ فإنه أظلم من يزيد باتفاق الناس. [مختصر منهاج السنة 1/ 343]
یزید پرلعنت کامسئلہ اسی جیسے دیگر خلفاء وبادشاہوں پرلعنت کی طرح ہے، اوریزید دیگربادشاہوں سے بہتر ہی ہے ، یہ امیرعراق مختاربن ابوعبید ثقفی سے بہتر ہے جس نے قاتلین حسین سے انتقام کا نعرہ بلندکیا تھا۔ کیونکہ اس ثقفی نے یہ دعوی کرلیا کہ اس کے پاس جبرئیل آتے ہیں ، اسی طرح یزید ، حجاج بن یوسف سے بھی بہترہے ۔کیونکہ حجاج بن یوسف ،یزید سے بڑھ کر ظالم ہے اس پر سب کا اتفاق ہے ۔
واضح رہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یزید کو ظالم تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ الزامی جواب دیا ہے یعنی اگریزید کی طرف منسوب ظلم کی باتیں تسلیم کرلی جائیں تب بھی یہ حجاج بن یوسف سے بڑا ظالم نہیں ہے۔